جمعرات 12 فروری 2026 - 04:02
امام رؤف کی ملکوتی اور نورانی بارگاہ

حوزہ/مشہد کی فضاء میں عجیب سی کشش تھی؛ سنہرے گنبد کے سائے میں جب ہم داخل ہوئے تو ایسا محسوس ہوا کہ جیسے فاصلے سمٹ گئے ہیں، سرحدیں ختم ہو گئی ہیں اور زبانوں کا فرق تمام ہو چکا ہے، ہمارے ساتھ مختلف ممالک کے دوست و احباب تھے، کوئی فارسی بول رہا تھا تو کوئی عربی، کوئی ترکی، تو کوئی اردو وغیرہ، زبانیں جدا، تہذیبیں مختلف، لیکن سلام سب کا ایک ہی تھا: السَّلامُ عَلیْک َیا عَلِی بْنِ مُوسَی الرِّضاؑ.

یادداشت: مولانا انتخاب حیدر قمی

حوزہ نیوز ایجنسی| مشہد کی فضاء میں عجیب سی کشش تھی؛ سنہرے گنبد کے سائے میں جب ہم داخل ہوئے تو ایسا محسوس ہوا کہ جیسے فاصلے سمٹ گئے ہیں، سرحدیں ختم ہو گئی ہیں اور زبانوں کا فرق تمام ہو چکا ہے، ہمارے ساتھ مختلف ممالک کے دوست و احباب تھے، کوئی فارسی بول رہا تھا تو کوئی عربی، کوئی ترکی، تو کوئی اردو وغیرہ، زبانیں جدا، تہذیبیں مختلف، لیکن سلام سب کا ایک ہی تھا: السَّلامُ عَلیْک َیا عَلِی بْنِ مُوسَی الرِّضاؑ.

یہ بہت ہی دلکش اور دلنشین منظر تھا کہ لفظ تو بدل رہے تھے مگر احساس ایک تھے۔

یہاں کوئی اجنبی نہ تھا، کیوں کہ سب ایک ایسے رشتے میں بندھے تھے جو نہ زبان سے بنتا ہے اور نہ ہی قوم سے، بلکہ اعتقاد اور محبت سے جنم لیتا ہے۔

ہر زبان میں ادا ہونے والی دعا کا رخ ایک ہی مرکز کی طرف تھا، اور ہر دل کی دھڑکن اسی در پر آ کر ہم آہنگ ہو گئی تھی، کوئی آنکھیں بند کئے خاموش کھڑا تھا، تو کوئی آہستہ آہستہ رو رہا تھا، اور کوئی اپنے وطن کی مٹی، اپنے گھر والوں اور اپنی امت کے لئے دعا مانگ رہا تھا۔

ہم نے یہ جانا اور سمجھا کہ امام رضا علیہ السلام صرف ایک شہر یا ایک قوم کے امام نہیں، بلکہ دلوں کے امام ہیں، آپ (ع) کی زیارت میں نہ مترجم کی ضرورت تھی او نہ ہی مشترک لغت کی، یہاں دل، دل سے بات کر رہا تھا، مختلف لہجوں میں بہنے والے آنسو ایک ہی معنی رکھتے تھے، اور مختلف زبانوں میں اٹھنے والے ہاتھ ایک ہی امید لگائے ہوئے تھے۔

اس زیارت نے ہمیں سکھایا کہ ولایت کی سرحدیں نہیں ہوتیں، محبت کا کوئی ترجمہ نہیں ہوتا اور سچائی کی زبان ہمیشہ ایک ہوتی ہے۔

مشہد سے واپسی کا وقت آیا تو قدم تو اپنے اپنے راستوں پہ آگے بڑھنے کی کوشش کرنے لگے، مگر دل سنہرے گنبد کے سائے میں ہی ٹھہر گئے، ایسا لگتا تھا جیسے اس در نے ہمیں اپنی خاموش نگاہوں میں محفوظ کر لیا ہو، اور پھر ہم الگ الگ سمتوں میں بکھر گئے۔

مگر ایک ہی نور ہمارے ساتھ سفر میں تھا، جو ناموں، زبانوں اور سرحدوں سے ماورا ہو کر دلوں میں اتر جاتا ہے، اور وہ نور ہمیں امام رضا علیہ السلام کی ملکوتی اور نورانی بارگاہ سے نصیب ہوتا ہے، جو ہمارے دلوں کو روشن اور منور کر دیتا ہے۔

خداوند عالم سے دعا ہے کہ خدا محمد(ص) و آل محمد علیہم السلام کے صدقے میں اس نور کو ہمارے دلوں میں ہمیشہ باقی اور برقرار رکھے اور ہماری اس زیارت کو آخری زیارت قرار نہ دے، ساتھ ہی ساتھ ہمیں برابر امام رؤف کی ملکوتی اور نورانی بارگاہ میں حاضر ہونے کی توفیق عنایت فرمائے۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha